Princess of Fergana Hazrat Bibi Rasti|Bibi Pak Daman

Here we are sharing the story of Princess of Fergana Hazrat Bibi Rasti | Bibi Pak Daman. She was the Mother of Hazrat Shah Rukn e Alam.

Princess of Fergana Hazrat Bibi Rasti| Bibi Pak Daman

حضرت بہاء الدین زکریا ملتانیؒ کی بہو، حضرت شیخ صدرالدین عارفؒ کی زوجہ اور حضرت شاہ رکن عالمؒ کی والدہ حضرت بی بی راستی ؒ المعروف حضرت بی بی پاکدامن ؒ

بی بی راستیؒ فرغانہ کی شہزادی تھیں۔ بی بی راستیؒ عام شہزادیوں سے بہت مختلف تھیں، انتہائی پرہیز گار اور عبادت گزار تھیں، اپنی عبادت و ریاضت کے باعث وہ عالم ناسوت سے عالم ملکوت میں داخل ہو چکی تھیں. شہزادی کے والد سلطان جمال الدینؒ بھی ایک درویش صفت بزرگ تھے۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ جلد از جلد بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔ ایک دن سلطان نے بیٹی سے شادی کے لئے بات کی تو شہزادی نے سر جھکا کر آہستہ سے کہا

:“بابا حضور! جب اللہ کی مرضی ہو گی یہ کام بھی ہو جائے گا۔ آپ کیوں فکر مند ہوتے ہیں؟ ہمیں خدا کے حکم کا انتظار کرنا چاہئے۔”

بی بی راستیؒ اکثر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جاتی رہتی تھیں۔ قیام کے دوران خانہ کعبہ میں روزانہ عبادت کرتی تھیں۔ حسب معمول ایک دفعہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھیں کہ ایک خوبصورت شخص کو دیکھا۔ نوجوان شخص کی پشت سے شعاعیں منعکس ہو رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا کہ نور کا سیلاب ہو۔ شہزادی اس شخص کو غور سے دیکھتی رہیں۔ طواف ختم ہونے کے بعد نوجوان سے مخاطب ہوئیں: ”کیا میں پوچھ سکتی ہوں آپ کا نام کیا ہے؟ اور آپ کہاں سے آئے ہیں؟ ”نوجوان نے کہا:” میرا نام صدر الدین ہے اور میں ملتان شہر کا رہنے والا ہوں۔ ”شہزادی نے پوچھا: ”آپ بہاؤالدین ذکریاؒ کے شہر سے تشریف لائے ہیں؟” ”جی ہاں۔ میں ان کا بیٹا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے فوراً ملتان کے سفر کی تیاری شروع کر دی۔

Bibi Pak Daman Travel to Multan With Her Father

ملتان پہنچنے پر حضرت بہاؤالدین ذکریاؒ نے شاہی مہمانوں کا شاندار استقبال کیا۔ دوسرے دن دوران ملاقات سلطان جمال الدین نے حضرت بہاؤ الدین ذکریاؒ سے دلی خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کسی مخدوم زادے سے کرنا چاہتے ہیں۔

Read Also: A Story of Hazrat Omar’s Bravery

حضرت بہاؤالدین نے فرمایا: ”میرے بیٹے آپ کے سامنے بیٹھے ہیں۔ آپ جسے چاہیں اپنی فرزندگی میں لے لیں۔”سلطان جمال الدین نے سلطان صدر الدین کی طرف دیکھا اور بہاؤالدین ذکریاؒ سے کہا: ”حضور میں صدر الدین کے لئے اتنی مسافت طے کر کے ملتان آیا ہوں۔”حضرت بہاؤ الدین ذکریاؒ نے اس رشتے کو قبول کر لیا اور اس طرح دونوں کی شادی ہو گئی۔ ہر مہینے کی چاند کی پہلی تاریخ کو حضرت بہاؤ الدین ذکریاؒ اپنی بہو بیٹیوں سے ملاقات کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حسب معمول حضرت بہاؤ الدین ذکریاؒ کے تمام بہوئیں اور بیٹے حجرے میں داخل ہوئے اور سلام کر کے ایک طرف بیٹھ گئے۔ جب شہزادی راستیؒ کی باری آئی تو حضرت بہاؤ الدین ذکریاؒ ایک دم کھڑے ہو گئے اور تعظیماً تھوڑا سا جھک گئے۔
یہ دیکھ کر شہزادی راستیؒ نہایت شرمندہ ہوئیں اور نہایت عاجزی سے عرض کیا: ”بابا! میں شرمند ہ ہوں میں اس تعظیم کے قابل نہیں ہوں، میں تو آپ کی خادمہ ہوں۔ ”حضرت بہاؤ الدین ذکریاؒ نے فرمایا: ”بیٹی یہ تعظیم ہم نے اس وجود کو دی ہے جو تمہارے بطن میں پروان چڑھ رہا ہے۔ ہم اپنے دور کے قطب الاقطاب کی تعظیم میں کھڑے ہوئے ہیں۔”یہ سن کر راستی بی بیؒ نے خوشی سے اپنا سارا اثاثہ حاجت مندوں میں خیرات کر دیا۔آخر ۹ رمضان ۶۴۹ ؁ بروز جمعہ حضرت رکن الدین عالمؒ پیدا ہوئے جن کے لئے بی بی راستیؒ نے برسوں سے امید لگا رکھی تھی اور جس کے لئے انہوں نے تخت و تاج چھوڑ دیا تھا۔
بی بی راستیؒ حضرت شاہ رکن الدین عالمؒ کو دودھ پلانے سے پہلے بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم ضرور پڑھتی تھیں چونکہ خود حافظ قرآن تھیں اس لئے لوری کے بجائے قرآن پاک کی تلاوت کرتی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن الدین عالمؒ نے پہلا لفظ “اللہ” بولا تھا۔

Tomb of Princess of Fergana Hazrat Bibi Rasti

برصغیر کے ممتاز روحانی پیشواء حضرت بہاء الدین زکریا ملتانیؒ کی بہو، حضرت شیخ صدرالدین عارفؒ کی زوجہ اور حضرت شاہ رکن عالمؒ کی والدہ حضرت بی بی راستی ؒ المعروف حضرت بی بی پاکدامن ؒ کا مزار

فیروزی رنگ کی کاشی کی اینٹوں سے مزین اس مقبرہ کو 1421 میں ملتان کے گورنر معززالدین مبارک نے اس وقت موجود محل کے باغ میں تعمیر کرایا جو 1443 میں حاکم ملتان شیخ یوسف قریشی کے دور میں مکمل ہوا۔ بعد میں گورنر ملتان شہزادہ مراد بخش نے 1648میں مقبرہ کی مرمت کرائی اور شاید اس کے بعد کبھی نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ حضرت بی بی راستی ؒ کی حضرت شیخ صدرالدین عارفؒ سے شادی ہو جانے کے بعد ان کے والدو فرغانہ کے شہنشاہ سلطان جمال الدین نے اپنی صاحبزادی کے لئے قلعہ کہنہ قاسم باغ کے جنوبی سمت محل تعمیر کرایا اور باغات لگوائے ۔ خانقاہ کے مغربی جانب شہنشاہ فرغانہ کا بنایا جانے والا کنواں آج بھی موجود ہے جو کبھی محل کے اندر ہوتا تھا اور اس کا پانی حضرت بی بی پاکدامن ؒ پیتی تھیں۔ اب کئی سو سال گزر جانے کے بعد محل و باغات تو نہیں رہے تاہم کنویں سے پانی نکالنے کے لئے اب محکمہ اوقاف کی جانب سے موٹر لگ چکی ہے اور 6 غسل خانوں میں باقاعدہ کمائی کے لئے غسل کا انتظام بھی موجود ہے جہاں خواتین اپنے عقیدے کے مطابق دور دور سے نہانے کے لئے آتی ہیں۔ دریں اثنا درگاہ کی چار دیواری شما لاً جنوباً 91 فٹ جبکہ شرقاً غرباً 148 فٹ طویل ہے ۔ طویل دیوار کو 12 برج نما ستونوں نے سہارا دیا ہوا ہے ۔مقبرے کے باہر لکڑی کے ستونوں پر قائم کشادہ برآمدہ چوبی کندہ کاری کا کام بے مثال ہے ۔ محکمہ اوقاف کی غفلت کی وجہ سے لگ بھگ 9 صدیاں پرانے مقبرے کا داخلی دروازہ بھی اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہا ہے ۔ واضح رہے کہ اسلامی نظریہ کی حامل حضرت بی بی پاکدامنؒ کی وفات 1296 بمطابق 695ھ میں ہوئی اور آپؒ کی وصیت کے مطابق انہیں محل کے باغ میں ہی دفن کیا گیا۔

راستی مخدومئہ عالم کہ بود
ہست مخدومئہ وصال پاک او

Princess of Fergana Hazrat Bibi Rasti

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: